Zahra & Dost Muhammad Foundation Presenst
جامعات اساسی عالمی
اپنی نسلوں کی تقدیر سنواریں
Shaping the destiny of generation
قومیں عروج و زوا ل کے مدو جزر سے گزرتی ہیں بگڑتی ہیں بکھرتی ہیں اور پھرسنورتی ہیں سنبھلتی ہیں ۔ قدرت کا یہ اصول ہمیشہ سے رہا ہے ۔ قران کریم میں ایسی قوموں کا ذکر موجود ہے جو گمراہی کا شکار ہویٔیں، اللہ کے غضب کی مستحق قرار پایٔیں۔ آج ان کے نام لیوا بھی موجود نہیں۔ وہ قومیں جنہیں کبھی اللہ کی پسندیدہ قوم کا درجہ حاصل رہا جب اس کے بتاۓ ہوۓ راستے سے بھٹک گیںٔ اور بار بار کی تنبیہ کے باوجود اپنا قبلہ درست نہ کرسکیں وہ ذلت، تباہی و بربادی کا شکار ہویٔیں۔قران ہمیں بار بار ایسی قوموں کے انجام کا بتاکر تنبیہ کرتا ہے، ان برباد شدہ قوموں کی تباہی کے اسباب پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے ، ایک ہونے، نفاق سے بچنے اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے کی ہدایت کرتا ہے کہ خبردار ان کی تقلید نہ کرنا ورنہ تم بھی اللہ کے غضب کا شکار ہوجاؤگے۔
مسلمانوں کو یہ تنبیہ قران کے علاوہ روۓ زمین کے حالات و واقعات کی شکل میں بھی بار ہا ملی۔ جہاں ہمیں گمراہی کے شکار لوگوں نے صراط مستقیم سے ہٹانے کی کوشش کی وہیں جذ بہ ایمانی سے سرشار اللہ کے نیک بندے ان کے آڑے آۓ اور ان کی پیشرفت میں نمایاں کمی واقع ہویٔ۔افسوس کہ وہ عزم جو گناہ گاروں کا تھا وہ نسل در نسل چلتا اور پھلتا پھولتا رہا مگر نیکی کی قوتیں اپنی کامیابی کے نشے میں سو گیںٔ، سست روی کا شکار ہو گیںٔ۔
بر صغیر کی تاریخ میں یہ سلسلہ انیسویں صدی کے وسط سے شروع ہوا جب فرنگی مقامی لوگوں سے مکالمے کرنے، انہیں اپنا طرفدار بنانے کی کوششوں میں کامیاب ہونا شروع ہوۓ۔ چند ہی سالوں میں وہ وفاداروں کا ایک ایسا حلقہ بنانے میں کامیاب ہوگۓ جو ان کے مقاصد کو آگے بڑھانے میں ممد و معاون ہوسکتا تھا۔ اور اس حلقے نے انہیں مایوس نہیں کیا۔
جہاں انگریز اپنے ناپاک عزایٔم کی تکمیل میں کوشاں تھے وہیں مسلمان بھی غافل نہیں رہے اور جب پانی سر سے اونچا ہوتا محسوس ہوا تو طبل جنگ بجا دیا۔ محراب و منبر تک جاگ گۓ اور فتنے کی سرکوبی کے لیۓ کمر بستہ ہوگۓ۔ مگر دیر ہو چکی تھی۔ فرنگیوں نے دامے درمے اتنے حلیف پیدا کر لیۓ تھے کہ ان کی مدد سے وہ اپنی یقینی شکست کو فتح میں بدلنے میں کامیاب ہوگۓ۔
بات اگر صرف اقتدار کی تبدیلی کی ہوتی تو پھر بھی گوارا تھی مگرافسوس جو ہوا اور جو آج بھی جاری ہے وہ ہماری اقدار، ہماری زبان، ہماری تہذیب، رسم و رواج، حتیٰ کہ ہمارے دین و ایمان پر پڑنے والی وہ ضرب ہے جس نے ہماری چولیں تک ہلادیں۔ترقی کے نام پر ہم نے مغرب کی اتنی تقلید کی کہ ہم اپنی تعریف سے ہی نا آشنا ہو گۓ۔
آج ہماری نسل کو اپنی زبان، اپنی تہذیب، اپنی روایات، اپنی اقدار اور اپنے شاندار ماضی کا کویٔ علم نہیں۔ یہ زبان میں، وضع قطع میں، ادب و اداب میں طور طریقوں میں ایک بالکل جدا نسل ہے جو ایک گھر میں رہ کر بھی سب سے جدا، سب سے الگ قوم ہے جسے اپنی زبان و تہذیب سے آشنایٔ نہیں، اپنے بزرگوں کا علم نہیں، اپنی تاریخ کا علم نہیں، اپنی شاندار روایات سے واقف نہیں اپنے مجاہدین و فاتحین کی بابت کویٔ معلومات نہیں۔ یہ بیگانے لوگ ہیں،اپنی شناخت تک بھول چکے ہیں۔
راہ کٹھن ہے، آگے اندھیرا ہے، مرض لا علاجی کی حدیں چھو رہا ہے، مگر ہم جامعات اساسی کی شمعوں سے اس اندھیرے کو دور کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ یہ ثابت کرنے کا عزم رکھتے ہیں کہ حزب الشیطٰن کبھی بھی حزب اللہ سے زیادہ طاقتور نہیں ہو سکتے، ہمارے بڑوں نے اگر بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑاۓ تو ہماری نسلیں آسمان کی بلندیوں پر کمانیں ڈالیں گی، چاند ستاروں کو مسخر کرینگی۔ ہم ایک ایسا نظام تعلیم اپنی نسلوں کو دینگے کہ جس کی مدد سے وہ انشاء اللہ کوہ و دمن کو بھی سرنگوں کرلیں گے۔
ہمارا شاندار ماضی
Building Character Together . کردار سازی اور ہم
اپنی زبان، تہذیب اور اقدار کے ساتھ اعلیٰ تعلیم و ممتاز کردار سازی
150+
15
Trusted by Parents
Proven
Our Focus ہمارا نصب العین
نیٗ نسل کی کردار سازی میں پیش پیش
Character کردار
صحت مند سرگرمیاں جو کردار سازی میں بڑی اہمیت کی حامل ہیں
Learning
Innovative methods fostering curiosity and critical thinking.
محفوظ ماحول میں تعلیم کے ساتھ ساتھ قابل قدر صفات وخود اعتمادی کی ترغیب دیتے لمحے
Growth نمو
Join Us Today ہمارے ساتھ شامل رہیں
Stay updated on character-building tips






